(Bang-e-Dra-114) (انسان) Insan

انسان

منظر چمنستاں کے زیبا ہوں کہ نازیبا
محروم عمل نرگس مجبور تماشا ہے

رفتار کی لذت کا احساس نہیں اس کو
فطرت ہی صنوبر کی محروم تمنا ہے

تسلیم کی خوگر ہے جو چیز ہے دنیا میں
انسان کی ہر قوت سرگرم تقاضا ہے

اس ذرے کو رہتی ہے وسعت کی ہوس ہر دم
یہ ذرہ نہیں، شاید سمٹا ہوا صحرا ہے

چاہے تو بدل ڈالے ہےئت چمنستاں کی
یہ ہستی دانا ہے، بینا ہے، توانا ہے

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: