(Bang-e-Dra-115) (خطاب با جوانان اسلام) Khitab Ba Jawanan-e-Islam

خطاب بہ جوانان اسلام

کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پائوں میں تاج سر دارا

تمدن آفریں خلاق آئین جہاں داری
وہ صحرائے عرب یعنی شتربانوں کا گہوارا
آفریں: تہذیب پیدا کرنے والا۔ تمدن
خلاق آئین جہاں داری: حکومت کے اصول وضع کرنے والا۔
سماں ‘الفقر فخری’ کا رہا شان امارت میں
بآب و رنگ و خال و خط چہ حاجت روے زیبا را
اس لیے کہ خوبصورت چہرہ رنگ ، نسل اور سامان و آرائش کا محتاج نہیں ہوتا۔
گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے
کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا
منعم: دولتمند۔
غرض میں کیا کہوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشیں کیا تھے
جہاں گیر و جہاں دار و جہاں بان و جہاں آرا

اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں
مگر تیرے تخیل سے فزوں تر ہے وہ نظارا
فزوں تر: زیادہ۔
تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تو گفتار وہ کردار، تو ثابت وہ سےارا

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی
نہیں دنیا کے آئین مسلم سے کوئی چارا

مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا

غنی! روز سیاہ پیر کنعاں را تماشا کن
کہ نور دیدہ اش روشن کند چشم زلیخا را
غنی پیر کنعان ، یعنی حضرت یعقوب (علیہ) کے نصیب کا تماشا دیکھ؛ کہ ان کی آنکھوں کا نور (حضرت یوسف علیہ) زلیخا کی آنکھوں کو روشن کر رہا ہے۔ (یہ شعر غنی کشمیری کا ہے)

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close