(Bang-e-Dra-117) (شمع اور شاعر) Shama Aur Shayar

شمع اور شاعر

شاعر
دوش می گفتم بہ شمع منزل ویران خویش
گیسوے تو از پر پروانہ دارد شانہ اے
کل میں نے اپنے ویران اور اجاڑ گھر میں جلنے والی شمع سے استفسار کیا کہ پروانے جو ہمہ وقت تیرا طواف کرتے رہتے ہیں بجا طور پر تجھ پر فریفتہ ہیں۔
درجہاں مثل چراغ لالہ صحراستم
نے نصیب محفلے نے قسمت کاشانہ اے
جب کہ میری شخصیّت تو اس گل لالہ کی مانند ہے جو جلتا تو رہتا ہے تاہم اس کے مقدّر میں نہ کوئ محفل ہے نہ ہی کوئی ڈھنگ کا گھر ہے۔
مدتے مانند تو من ہم نفس می سوختم
در طواف شعلہ ام بالے نہ زد پروانہ اے
ایک عرصے سے آپ کی طرح جلتا تو رہا ہے لیکن نہ کوئی اس کا طواف کرتا ہے، نہ کوئی شیدائی ہے۔
می تپد صد جلوہ در جان امل فرسودم ن
بر نمی خیزد ازیں محفل دل دیوانہ اے
آرزوؤں اور خواہشوں میں صرف ہونے والی میری جان اس عالم رنگ و بو میں سینکڑوں جلوے پیدا کر رہی ہے ، پھر بھی محفل میں کوئی دیوانہ نہیں اٹھا۔
از کجا ایں آتش عالم فروز اندوختی
کرمک بے مایہ را سوز کلیم آموختی
اے شمع آخر تو نے پوری دنیا کو منوّر کرنے والی روشنی کہاں سے حاصل کی جس کی سبب ایک بے حقیقت پروانے کو موسی (علیہ) جیسا سوز مل گیا۔
شمع
مجھ کو جو موج نفس دیتی ہے پیغام اجل
لب اسی موج نفس سے ہے نوا پیرا ترا

میں تو جلتی ہوں کہ ہے مضمر مری فطرت میں سوز
تو فروزاں ہے کہ پروانوں کو ہو سودا ترا
سودا: خبط۔
گریہ ساماں میں کہ میرے دل میں ہے طوفان اشک
شبنم افشاں تو کہ بزم گل میں ہو چرچا ترا
بزم گل: پھولوں کی محفل۔
گل بہ دامن ہے مری شب کے لہو سے میری صبح
ہے ترے امروز سے نا آشنا فردا ترا
گل بہ دامن: دامن میں پھول۔
فردا: آنے والا کل۔
یوں تو روشن ہے مگر سوز دروں رکھتا نہیں
شعلہ ہے مثل چراغ لالہء صحرا ترا
سوز دروں: اندر کی حرارت۔
چراغ لالہء صحرا: صحرا کے لالہ کا چراغ۔
سوچ تو دل میں، لقب ساقی کا ہے زیبا تجھے؟
انجمن پیاسی ہے اور پیمانہ بے صہبا ترا!
بے صہبا: بغیر شراب کے۔
اور ہے تیرا شعار، آئین ملت اور ہے
زشت روئی سے تری آئینہ ہے رسوا ترا
زشت روئي: بدصورتی۔
کعبہ پہلو میں ہے اور سودائی بت خانہ ہے
کس قدر شوریدہ سر ہے شوق بے پروا ترا
شوريدہ: دیوانہ۔
قیس پیدا ہوں تری محفل میں یہ ممکن نہیں
تنگ ہے صحرا ترا، محمل ہے بے لیلا ترا
محمل: لیلی کے بیٹھنے کی جگہ۔
اے در تابندہ، اے پروردہء آغوش موج!
لذت طوفاں سے ہے نا آشنا دریا ترا
در تابندہ: چمکدار موتی۔
اب نوا پیرا ہے کیا، گلشن ہوا برہم ترا
بے محل تیرا ترنم، نغمہ بے موسم ترا
برہم: اجڑ گیا ہے۔
نوا پيرا: گیت گا رہا ہے۔
تھا جنھیں ذوق تماشا، وہ تو رخصت ہو گئے
لے کے اب تو وعدہ دیدار عام آیا تو کیا

انجمن سے وہ پرانے شعلہ آشام اٹھ گئے
ساقیا! محفل میں تو آتش بجام آیا تو کیا
شعلہ آشام: شعلہ یعنی شراب پینے والے۔
آتش بجام: پیالے میں آگ۔
آہ، جب گلشن کی جمعیت پریشاں ہو چکی
پھول کو باد بہاری کا پیام آیا تو کیا
گلشن کي جمعيت: باغ کا شیرازہ۔
آخر شب دید کے قابل تھی بسمل کی تڑپ
صبحدم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا
بالائے بام: چھت کے اوپر۔
بجھ گیا وہ شعلہ جو مقصود ہر پروانہ تھا
اب کوئی سودائی سوز تمام آیا تو کیا
سوز تمام: تمام حرارت۔
پھول بے پروا ہیں، تو گرم نوا ہو یا نہ ہو
کارواں بے حس ہے، آواز درا ہو یا نہ ہو
آواز درا: کارواں کی گھنٹی کی آواز۔
شمع محفل ہو کے تو جب سوز سے خالی رہا
تیرے پروانے بھی اس لذت سے بیگانے رہے

رشتہ الفت میں جب ان کو پرو سکتا تھا تو
پھر پریشاں کیوں تری تسبیح کے دانے رہے

شوق بے پروا گیا، فکر فلک پیما گیا
تیری محفل میں نہ دیوانے نہ فرزانے رہے
فکر فلک پيما: آسمان پر سیر کرنے والا فکر۔
فرزانے: عقلمند۔
وہ جگر سوزی نہیں، وہ شعلہ آشامی نہیں
فائدہ پھر کیا جو گرد شمع پروانے رہے

خیر، تو ساقی سہی لیکن پلائے گا کسے
اب نہ وہ مے کش رہے باقی نہ مے خانے رہے

رو رہی ہے آج اک ٹوٹی ہوئی مینا اسے
کل تلک گردش میں جس ساقی کے پیمانے رہے
مينا: صراحی۔
آج ہیں خاموش وہ دشت جنوں پرور جہاں
رقص میں لیلی رہی، لیلی کے دیوانے رہے
دشت جنوں پرور: دیوانگی کی پرورش کرنے والا ویرانہ۔
وائے ناکامی! متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
احساس زياں: نقصان کا احساس۔
جن کے ہنگاموں سے تھے آباد ویرانے کبھی
شہر ان کے مٹ گئے آبادیاں بن ہو گئیں

سطوت توحید قائم جن نمازوں سے ہوئی
وہ نمازیں ہند میں نذر برہمن ہو گئیں
سطوت: دبدبہ ۔
دہر میں عیش دوام آئیں کی پابندی سے ہے
موج کو آزادیاں سامان شیون ہو گئیں
سامان شيون: رونے کا سامان۔
خود تجلی کو تمنا جن کے نظاروں کی تھی
وہ نگاہیں نا امید نور ایمن ہوگئیں
نور ايمن: وہ تجلّی جو موسی (علیہ) نے دیکھی تھی۔
اڑتی پھرتی تھیں ہزاروں بلبلیں گلزار میں
دل میں کیا آئی کہ پابند نشیمن ہو گئیں
پابند نشيمن: آشیانوں میں بیٹھیں۔
وسعت گردوں میں تھی ان کی تڑپ نظارہ سوز
بجلیاں آسودہء دامان خرمن ہوگئیں
آسودہء دامان خرمن: کھلیان کے دامن پر پہنچ کر ٹھنڈی ہو گئیں ۔
دیدہء خونبار ہو منت کش گلزار کیوں
اشک پیہم سے نگاہیں گل بہ دامن ہو گئیں
خون برسانے والی آنکھ۔ ديدہء خونبار:
شام غم لیکن خبر دیتی ہے صبح عید کی
ظلمت شب میں نظر آئی کرن امید کی

مژدہ اے پیمانہ بردار خمستان حجاز!
بعد مدت کے ترے رندوں کو پھر آیا ہے ہوش
خمستان: شراب کے مٹکے رکھنے کی جگہ۔
نقد خودداری بہائے بادہء اغیار تھی
پھر دکاں تیری ہے لبریز صدائے نائو نوش
صدائے نائو نوش: شراب نوشی کے وقت کا شور و غل۔
ٹوٹنے کو ہے طلسم ماہ سیمایان ہند
پھر سلیمی کی نظر دیتی ہے پیغام خروش
ماہ سيمايان ہند: ہندوستان کے چاند جیسی پیشانی والے حسین۔
سليمي: عرب کے ایک شاعر کی محبوبہ۔
پيغام خروش: جوش و خروش کا پیغام۔
پھر یہ غوغا ہے کہ لاساقی شراب خانہ ساز
دل کے ہنگامے مےء مغرب نے کر ڈالے خموش

نغمہ پیرا ہو کہ یہ ہنگام خاموشی نہیں
ہے سحر کا آسماں خورشید سے مینا بدوش
نغمہ پيرا ہو: گانا گاؤ۔
در غم دیگر بسوز و دیگراں را ہم بسوز
گفتمت روشن حدیثے گر توانی دار گوش
دوسروں کے دکھ درد میں جلو اور دوسروں کو بھی سوز عشق میں مبتلا کرو، اگر تم کان دھرو تو میں تمہیں ایک ردشن بات سناتا ہوں۔
کہہ گئے ہیں شاعری جزو یست از پیغمبری
ہاں سنا دے محفل ملت کو پیغام سروش
جزو يست از پيغمبري: پيغمبري کا حصّہ۔
پيغام سروش: فرشتے کا پیغام۔
آنکھ کو بیدار کر دے وعدہ دیدار سے
زندہ کر دے دل کو سوز جوہر گفتار سے
سوز جوہر گفتار: قلم کی گرمی۔
رہزن ہمت ہوا ذوق تن آسانی ترا
بحر تھا صحرا میں تو، گلشن میں مثل جو ہوا

اپنی اصلیت پہ قائم تھا تو جمعیت بھی تھی
چھوڑ کر گل کو پریشاں کاروان بو ہوا
جمعيت: اتحاد۔
زندگی قطرے کی سکھلاتی ہے اسرار حیات
یہ کبھی گوہر، کبھی شبنم، کبھی آنسو ہوا

پھر کہیں سے اس کو پیدا کر، بڑی دولت ہے یہ
زندگی کیسی جو دل بیگانہء پہلو ہوا

فرد قائم ربط ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

پردہ دل میں محبت کو ابھی مستور رکھ
آبر باقی تری ملت کی جمیعت ہے تھی

جب یہ جمیعت گئی، دنیا میں رسوا تو ہوا
یعنی اپنی مے کو رسوا صورت مینا نہ کر

خیمہ زن ہو وادی سینا میں مانند کلیم
شعلہ تحقیق کو غارت گر کاشانہ کر
شعلہ تحقيق: علم کی جستجو کی آگ۔
شمع کو بھی ہو ذرا معلوم انجام ستم
صرف تعمیر سحر خاکستر پروانہ کر

تو اگر خود دار ہے، منت کش ساقی نہ ہو
عین دریا میں حباب آسا نگوں پیمانہ کر

کیفیت باقی پرانے کوہ و صحرا میں نہیں
ہے جنوں تیرا نیا، پیدا نیا ویرانہ کر

خاک میں تجھ کو مقدر نے ملایا ہے اگر
تو عصا افتاد سے پیدا مثال دانہ کر

ہاں، اسی شاخ کہن پر پھر بنا لے آشیاں
اہل گلشن کو شہید نغمہ مستانہ کر

اس چمن میں پیرو بلبل ہو یا تلمیذ گل
یا سراپا نالہ بن جا یا نوا پیدا نہ کر
تلميذ: شاگرد۔
کیوں چمن میں بے صدا مثل رم شبنم ہے تو
لب کشا ہو جا، سرود بربط عالم ہے تو
بے صدا مثل رم شبنم: جیسے شبنم بے آواز گرتی ہے۔
سرود بربط عالم: ساری دنیا کا ساز۔
آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرا
دانہ تو، کھیتی بھی تو، باراں بھی تو، حاصل بھی تو

آہ، کس کی جستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے
راہ تو، رہرو بھی تو، رہبر بھی تو، منزل بھی تو

کانپتا ہے دل ترا اندیشہء طوفاں سے کیا
ناخدا تو، بحر تو، کشتی بھی تو، ساحل بھی تو

دیکھ آ کر کوچہء چاک گریباں میں کبھی
قیس تو، لیلی بھی تو، صحرا بھی تو، محمل بھی تو
کوچہء چاک گريباں: مراد ہے عاشقوں کی گلی۔
وائے نادانی کہ تو محتاج ساقی ہو گیا
مے بھی تو، مینا بھی تو، ساقی بھی تو، محفل بھی تو

شعلہ بن کر پھونک دے خاشاک غیر اللہ کو
خوف باطل کیا کہ ہے غارت گر باطل بھی تو
خاشاک : گھاس پھوس۔
بے خبر! تو جوہر آئینہء ایام ہے
تو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے

اپنی اصلیت سے ہو آگاہ اے غافل کہ تو
قطرہ ہے، لیکن مثال بحر بے پایاں بھی ہے

کیوں گرفتار طلسم ہیچ مقداری ہے تو
دیکھ تو پوشیدہ تجھ میں شوکت طوفاں بھی ہے
طلسم ہيچ مقداري: بے حثیتی کا جادو یعنی احساس کمتری۔
سینہ ہے تیرا امیں اس کے پیام ناز کا
جو نظام دہر میں پیدا بھی ہے، پنہاں بھی ہے

ہفت کشور جس سے ہو تسخیر بے تیغ و تفنگ
تو اگر سمجھے تو تیرے پاس وہ ساماں بھی ہے
ہفت کشور: سات ولا یتیں۔
اب تلک شاہد ہے جس پر کوہ فاراں کا سکوت
اے تغافل پیشہ! تجھ کو یاد وہ پیماں بھی ہے ؟

تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں علاج تنگی داماں بھی ہے

دل کی کیفیت ہے پیدا پردہء تقریر میں
کسوت مینا میں مے مستور بھی، عریاں بھی ہے
کسوت مينا: صراحی کا لباس یعنی پردہ۔
پھونک ڈالا ہے مری آتش نوائی نے مجھے
اورمیری زندگانی کا یہی ساماں بھی ہے

راز اس آتش نوائی کا مرے سینے میں دیکھ
جلوہ تقدیر میرے دل کے آئینے میں دیکھ!

آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی
آئينہ پوش: منوّر ہو گا۔
سيماب پا ہو جائے گي: بھاگ جائے گی۔
اس قدر ہوگی ترنم آفریں باد بہار
نکہت خوابیدہ غنچے کی نوا ہو جائے گی

آملیں گے سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک
بزم گل کی ہم نفس باد صبا ہو جائے گی

شبنم افشانی مری پیدا کرے گی سوز و ساز
اس چمن کی ہر کلی درد آشنا ہو جائے گی

دیکھ لو گے سطوت رفتار دریا کا مآل
موج مضطر ہی اسے زنجیر پا ہو جائے گی

پھر دلوں کو یاد آ جائے گا پیغام سجود
پھر جبیں خاک حرم سے آشنا ہو جائے گی

نالہء صیاد سے ہوں گے نوا ساماں طیور
خون گلچیں سے کلی رنگیں قبا ہو جائے گی
خون گلچيں: پھول چننے والے کا خون۔
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آ سکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

شب گریزاں ہو گی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: