(Bang-e-Dra-124) (قرب سلطان) Qurb-e-Sultan

قرب سلطان

تمیز حاکم و محکوم مٹ نہیں سکتی
مجال کیا کہ گداگر ہو شاہ کا ہمدوش

جہاں میں خواجہ پرستی ہے بندگی کا کمال
رضاے خواجہ طلب کن قباے رنگیں پوش

مگر غرض جو حصول رضائے حاکم ہو
خطاب ملتا ہے منصب پرست و قوم فروش

پرانے طرز عمل میں ہزار مشکل ہے
نئے اصول سے خالی ہے فکر کی آغوش

مزا تو یہ ہے کہ یوں زیر آسماں رہیے
ہزار گونہ سخن در دہان و لب خاموش

یہی اصول ہے سرمایہء سکون حیات
گداے گوشہ نشینی تو حافظا مخروش
اے حافظ! تو دنیا ترک کر کے ایک گوشے میں پڑا ہے اس لیے تمہیں شور کرنے کی بجائے خاموش رہنا چاہئے ۔
مگر خروش پہ مائل ہے تو، تو بسم اللہ
بگیر بادئہ صافی، ببانگ چنگ بنوش
اس کے لیے شراب خالص کا حصول ضروری ہے تا کہ اس سے راگ و رنگ کی محفل میں نوش جاں کیا جا سکے۔
شریک بزم امیر و وزیر و سلطاں ہو
لڑا کے توڑ دے سنگ ہوس سے شیشہء ہوش

پیام مرشد شیراز بھی مگر سن لے
کہ ہے یہ سر نہاں خانہء ضمیر سروش

محل نور تجلی ست راے انور شاہ
چو قرب او طلبی درصفاے نیت کوش
شاہوں کی رائے پر تجلّیوں کا نور برستا ہے، جب تو اس کے پاس بیٹھنے کا طلب گار ہو تو نیت صاف رکھنے کی کوشش کر ۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: