(Bang-e-Dra-126) (نوید صبح) Naveed-e-Subah

نوید صبح

آتی ہے مشرق سے جب ہنگامہ در دامن سحر
منزل ہستی سے کر جاتی ہے خاموشی سفر
ہنگامہ در دامن: دامن میں ہنگامہ لیے ہوئے۔
محفل قدرت کا آخر ٹوٹ جاتا ہے سکوت
دیتی ہے ہر چیز اپنی زندگانی کا ثبوت

چہچاتے ہیں پرندے پا کے پیغام حیات
باندھتے ہیں پھول بھی گلشن میں احرام حیات
احرام: وہ ان سلا لباس جو حاجی پہنتے ہیں۔
مسلم خوابیدہ اٹھ، ہنگامہ آرا تو بھی ہو
وہ چمک اٹھا افق، گرم تقاضا تو بھی ہو

وسعت عالم میں رہ پیما ہو مثل آفتاب
دامن گردوں سے ناپیدا ہوں یہ داغ سحاب
سحاب: بادل۔
کھینچ کر خنجر کرن کا، پھر ہو سرگرم ستیز
پھر سکھا تاریکی باطل کو آداب گریز
ستيز: لڑائی، جنگ۔
آداب گريز: بھاگنے کے طریقے۔
تو سراپا نور ہے، خوشتر ہے عریانی تجھے
اور عریاں ہو کے لازم ہے خود افشانی تجھے
خود افشاني: اپنے آپ کو چھڑکنا؛ مراد ہے جوہر نمایاں کرنا۔
ہاں، نمایاں ہو کے برق دیدئہ خفاش ہو
اے دل کون ومکاں کے راز مضمر! فاش ہو
خفاش: چمگادڑ۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: