(Bang-e-Dra-127) (دعا) Dua

دعا

یا رب! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے

پھر وادی فاراں کے ہر ذرے کو چمکا دے
پھر شوق تماشا دے، پھر ذوق تقاضا دے
مراد ہے تمام ملت اسلامیہ۔
محروم تماشا کو پھر دیدئہ بینا دے
دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے
دیدئہ بینا: دیکھنے والی آنکھ۔
بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعت صحرا دے
آہو: ہرن، مراد ہے مسلمانی۔
سوئے حرم: حرم یعنی دین کی طرف۔
خوگر: عادی، مراد ہے شہر کی گھٹن کا عادی۔
پیدا دل ویراں میں پھر شورش محشر کر
اس محمل خالی کو پھر شاہد لیلا دے
شورش محشر:مراد ہے پھر سے زندہ کر دے۔
محمل: کجاوہ جو اونٹ پر سواری کے لیے رکھا جاتا ہے۔
شاہد لیلا: مراد ہے پھر سے دین سے لگاؤ پیدا ہو جائے۔
اس دور کی ظلمت میں ہر قلب پریشاں کو
وہ داغ محبت دے جو چاند کو شرما دے
ظلمت: اندھیرا۔
رفعت میں مقاصد کو ہمدوش ثریا کر
خودداری ساحل دے، آزادی دریا دے
رفعت: بلندی۔
ہمدوش ثریا: ثریا ستاروں کے ایک جھرمٹ کو کہتے ہیں؛ مراد ستاروں کی طرح بلند کر دے۔
ساحل: مراد ہے ساحل کسی کی طرف چل کر نہیں جاتا ؛ سب اس کی طرف چل کر آ تے ہیں۔ خودداری
بے لوث محبت ہو، بے باک صداقت ہو
سینوں میں اجالا کر، دل صورت مینا دے
بے لوث محبت:ایسی محبت جو صلہ نہ مانگے۔
بے باک: بے خوف، نڈر۔
صورت مینا: مراد ہے کہ صراحی جو کچھ رکھتی ہے وہ دوسروں میں بانٹ دیتی ہے۔
احساس عنایت کر آثار مصیبت کا
امروز کی شورش میں اندیشہء فردا دے
کی شورش: آج کی مصروفیات۔ امروز
)Aaney waaley kal ki fikr.) اندیشہء فردا: آنے والی کل کی فکر۔
میں بلبل نالاں ہوں اک اجڑے گلستاں کا
تاثیر کا سائل ہوں، محتاج کو، داتا دے!
بلبل نالاں: آہ و زاری کرتا ہوا بلبل۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: