(Bang-e-Dra-132) (غلام قادر روحیلہ) Ghulam Qadir Ruhela

غلام قادر رہیلہ

رہیلہ کس قدر ظالم، جفا جو، کینہ پرور تھا
نکالیں شاہ تیموری کی آنکھیں نوک خنجر سے

دیا اہل حرم کو رقص کا فرماں ستم گر نے
یہ انداز ستم کچھ کم نہ تھا آثار محشر سے
آثار محشر: قیامت کی نشانیاں۔
بھلا تعمیل اس فرمان غیرت کش کی ممکن تھی!
شہنشاہی حرم کی نازنینان سمن بر سے
سمن بر: چنبیلی جیسے جسم والی۔
بنایا آہ! سامان طرب بیدرد نے ان کو
نہاں تھا حسن جن کا چشم مہر و ماہ و اختر سے
سامان طرب: عیش و نشاط کا سرمایہ۔
لرزتے تھے دل نازک، قدم مجبور جنبش تھے
رواں دریائے خوں، شہزادیوں کے دیدئہ تر سے

یونہی کچھ دیر تک محو نظر آنکھیں رہیں اس کی
کیا گھبرا کے پھر آزاد سر کو بار مغفر سے
مغفر: لڑائی میں سر پر پہننے والی فولادی ٹوپی۔
کمر سے، اٹھ کے تیغ جاں ستاں، آتش فشاں کھولی
سبق آموز تابانی ہوں انجم جس کے جوہر سے

رکھا خنجر کو آگے اور پھر کچھ سوچ کر لیٹا
تقاضا کر رہی تھی نیند گویا چشم احمر سے
چشم احمر: سرخ۔
بجھائے خواب کے پانی نے اخگر اس کی آنکھوں کے
نظر شرما گئی ظالم کی درد انگیز منظر سے
اخگر: شعلہ۔
پھر اٹھا اور تیموری حرم سے یوں لگا کہنے
شکایت چاہیے تم کو نہ کچھ اپنے مقدر سے

مرا مسند پہ سو جانا بناوٹ تھی، تکلف تھا
کہ غفلت دور سے شان صف آرایان لشکر سے

یہ مقصد تھا مرا اس سے، کوئی تیمور کی بیٹی
مجھے غافل سمجھ کر مار ڈالے میرے خنجر سے

مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر
حمیت نام ہے جس کا، گئی تیمور کے گھر سے

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: