(Bang-e-Dra-134) (میں اور تو) Main Aur Tu

میں اور تو

مذاق دید سے ناآشنا نظر ہے مری
تری نگاہ ہے فطرت کی راز داں، پھر کیا

رہین شکوئہ ایام ہے زبان مری
تری مراد پہ ہے دور آسماں، پھر کیا

رکھا مجھے چمن آوارہ مثل موج نسیم
عطا فلک نے کیا تجھ کو آشیاں، پھر کیا

فزوں ہے سود سے سرمایہء حیات ترا
مرے نصیب میں ہے کاوش زیاں، پھر کیا

ہوا میں تیرتے پھرتے ہیں تیرے طیارے
مرا جہاز ہے محروم بادباں، پھر کیا

قوی شدیم چہ شد، ناتواں شدیم چہ شد
چنیں شدیم چہ شد یا چناں شدیم چہ شد
طاقتور ہوئے تو کیا ؟ کمزور ہوئے تو کیا؟ ایسے ہوئے تو کیا؟ ویسے ہوئے تو کیا؟
بہیچ گونہ دریں گلستاں قرارے نیست
توگر بہار شدی، ما خزاں شدیم، چہ شد
اس باغ میں یعنی دنیا میں کسی طور بھی قرار و قیام ممکن نہیں؛ تو بہار ہو گیا تو کیا؟ میں خزاں ہو گیا تو کیا؟

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: