(Bang-e-Dra-136) (شبلی و حالی) Shibli-o-Hali

شبلی و حالی
مسلم سے ایک روز یہ اقبال نے کہا
دیوان جزو و کل میں ہے تیرا وجود فرد
تیرے سرود رفتہ کے نغمے علوم نو
تہذیب تیرے قافلہ ہائے کہن کی گرد
پتھر ہے اس کے واسطے موج نسیم بھی
نازک بہت ہے آئنہ آبروئے مرد
مردان کار، ڈھونڈ کے اسباب حادثات
کرتے ہیں چارئہ ستم چرخ لاجورد
چرخ لاجورد: گہرا نیلا آسمان۔
پوچھ ان سے جو چمن کے ہیں دیرنیہ رازدار
کیونکر ہوئی خزاں ترے گلشن سے ہم نبرد
ہم نبرد: لڑنے والا۔
مسلم مرے کلام سے بے تاب ہوگیا
غماز ہوگئی غم پنہاں کی آہ سرد
غماز: ظاہر کر دینا یعنی چغلی کھانا۔
کہنے لگا کہ دیکھ تو کیفیت خزاں
اوراق ہو گئے شجر زندگی کے زرد
خاموش ہو گئے چمنستاں کے رازدار
سرمایہ گداز تھی جن کی نوائے درد
شبلی کو رو رہے تھے ابھی اہل گلستاں
حالی بھی ہوگیا سوئے فردوس رہ نورد
سوئے فردوس رہ نورد: جنت کی طرف روانہ۔
اکنوں کرا دماغ کہ پرسد زباغباں
بلبل چہ گفت و گل چہ شنید و صبا چہ کرد
اب یہ جرات کس میں ہے کہ باغباں سے استفسار کرے کہ بلبل نے کیا کہا، گل نے کیا سنا اور صبا نے کیا عمل کیا۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: