(Bang-e-Dra-139) (تہذیب حاضر) Tehzeeb-e-Hazir

تہذیب حاضر

تضمین بر شعر فیضی
حرارت ہے بلاکی بادئہ تہذیب حاضر میں
بھڑک اٹھا بھبوکا بن کے مسلم کا تن خاکی
بادئہ تہذیب حاضر: موجودہ تہذیب کی شراب۔
بھبوکا بن کے: شعلہ بن کر۔
کیا ذرے کو جگنو دے کے تاب مستعار اس نے
کوئی دیکھے تو شوخی آفتاب جلوہ فرما کی
تاب مستعار: مانگی ہوئی روشنی ؛ عارضی چمک۔
نئے انداز پائے نوجوانوں کی طبیعت نے
یہ رعنائی، یہ بیداری، یہ آزادی، یہ بے باکی

تغیر آگیا ایسا تدبر میں، تخیل میں
ہنسی سمجھی گئی گلشن میں غنچوں کی جگر چاکی

کیا گم تازہ پروازوں نے اپنا آشیاں لیکن
مناظر دلکشا دکھلا گئی ساحر کی چالاکی
ساحر: جادوگر۔
حیات تازہ اپنے ساتھ لائی لذتیں کیا کیا
رقابت، خودفروشی، ناشکیبائی، ہوسناکی

فروغ شمع نو سے بزم مسلم جگمگا اٹھی
مگر کہتی ہے پروانوں سے میری کہنہ ادراکی
کہنہ ادراکی: پختہ سمجھ۔
تو اے پروانہ ! ایں گرمی ز شمع محفلے داری
چو من در آتش خود سوز اگر سوز دلے داری
اے پروانے تو نے یہ گرمی محفل کی شمع سے لی ہے؛ اگر دل میں سوز ہے تو میری طرح اپنی آگ میں جلنا سیکھ۔

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close