(Bal-e-Jibril-001) (میری نوا شوق سے شور حریم ذات میں) Meri Nawa-e-Shauq Se Shor Hareem-e-Zaat Mein

میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں

میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں
غلغلہ ہائے الاماں بت کدئہ صفات میں
ذات: باری تعالے کی ہستی ، وجود مطلق۔
حور و فرشتہ ہیں اسیر میرے تخیلات میں
میری نگاہ سے خلل تیری تجلیات میں

گرچہ ہے میری جستجو دیر و حرم کی نقش بند
میری فغاں سے رستخیز کعبہ و سومنات میں
نقش بند: نقش باندھنے والا، نقّاش۔
رستخیز: قیامت۔
گاہ مری نگاہ تیز چیر گئی دل وجود
گاہ الجھ کے رہ گئی میرے توہمات میں

تو نے یہ کیا غضب کیا، مجھ کو بھی فاش کر دیا
میں ہی تو اک راز تھا سینہء کائنات میں!

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: