(Bal-e-Jibril-004) (اثر کرے نہ کرے، سن تو لے میری فریاد) Asar Kare Na Kare, Sun To Le Meri Faryad

اثر کرے نہ کرے، سن تو لے مری فریاد

اثر کرے نہ کرے، سن تو لے مری فریاد
نہیں ہے داد کا طالب یہ بندہء آزاد

یہ مشت خاک، یہ صرصر، یہ وسعت افلاک
کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد!

ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمہء گل
یہی ہے فصل بہاری، یہی ہے باد مراد؟

قصور وار، غریب الدیار ہوں لیکن
ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد

مری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے
وہ دشت سادہ، وہ تیرا جہان بے بنیاد

خطر پسند طبیعت کو ساز گار نہیں
وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیاد

مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں
انھی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close