(Bal-e-Jibril-005) (کیا عشق ایک زندگی مستعار کا) Kya Ishq Aik Zindagi-e-Mastaar Ka

کیا عشق ایک زندگی مستعار کا

کیا عشق ایک زندگی مستعار کا
کیا عشق پائدار سے ناپائدار کا

وہ عشق جس کی شمع بجھا دے اجل کی پھونک
اس میں مزا نہیں تپش و انتظار کا

میری بساط کیا ہے، تب و تاب یک نفس
شعلے سے بے محل ہے الجھنا شرار کا

کر پہلے مجھ کو زندگی جاوداں عطا
پھر ذوق و شوق دیکھ دل بے قرار کا

کانٹا وہ دے کہ جس کی کھٹک لازوال ہو
یارب، وہ درد جس کی کسک لازوال ہو!

دلوں کو مرکز مہر و وفا کر
حریم کبریا سے آشنا کر

جسے نان جویں بخشی ہے تو نے
اسے بازوئے حیدر بھی عطا کر
نان جویں: جو کی روٹی۔

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close