(Bal-e-Jibril-007) (دگرگوں ہے جہاں، تاروں کی گردش تیز ہے ساقی) Digargoon Hai Jahan, Taron Ki Gardish Taez Hai Saqi

دگرگوں ہے جہاں، تاروں کی گردش تیز ہے ساقی

دگرگوں ہے جہاں، تاروں کی گردش تیز ہے ساقی
دل ہر ذرہ میں غوغائے رستا خیز ہے ساقی
غوغائے رستا خيز: قیامت کے دن کا شور۔
متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی
یہ کس کافر ادا کا غمزئہ خوں ریز ہے ساقی

وہی دیرینہ بیماری، وہی نا محکمی دل کی
علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی

حرم کے دل میں سوز آرزو پیدا نہیں ہوتا
کہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی
پيدائي: ظہور۔
نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے
وہی آب و گل ایراں، وہی تبریز ہے ساقی

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
کشت ويراں: ویران کھیتی۔
فقیر راہ کو بخشے گئے اسرار سلطانی
بہا میری نوا کی دولت پرویز ہے ساقی

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close