(Bal-e-Jibril-008) (لا پھر ایک بار وہی بادہ و جام اے ساقی) La Phir Aik Bar Wohi Badah-o-Jaam Ae Saqi

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی
ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی!

تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند
اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی

مری مینائے غزل میں تھی ذرا سی باقی
شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی

شیر مردوں سے ہوا بیشہء تحقیق تہی
رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی
بيشہء تحقيق تہي: تحقیق کا جنگل (شیر سے) خالی ہوا۔
عشق کی تیغ جگردار اڑا لی کس نے
علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی
تيغ جگردار: تلوار جس کی کاٹ بے پناہ ہو۔
سینہ روشن ہو تو ہے سوز سخن عین حیات
ہو نہ روشن، تو سخن مرگ دوام اے ساقی

تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ
ترے پیمانے میں ہے ماہ تمام اے ساقی!

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: