(Bal-e-Jibril-009) (مٹا دیا میرے ساقی نے عالم من و تو) Mita Diya Mere Saqi Ne Alam-e-Mann-o-Tu

مٹا دیا مرے ساقی نے عالم من و تو

مٹا دیا مرے ساقی نے عالم من و تو
پلا کے مجھ کو مے لا الہ الا ھو

نہ مے،نہ شعر، نہ ساقی، نہ شور چنگ و رباب
سکوت کوہ و لب جوے و لالہ خود رو!
چنگ و رباب: آلات موسیقی کے نام۔
لب جو: ندی کے کنارے۔
گدائے مے کدہ کی شان بے نیازی دیکھ
پہنچ کے چشمہ حیواں پہ توڑتا ہے سبو!
چشمہ حيواں: آب حیات کا چشمہ۔
مرا سبوچہ غنیمت ہے اس زمانے میں
کہ خانقاہ میں خالی ہیں صوفیوں کے کدو
کدو: شراب کا برتن۔
میں نو نیاز ہوں، مجھ سے حجاب ہی اولی
کہ دل سے بڑھ کے ہے میری نگاہ بے قابو

اگرچہ بحر کی موجوں میں ہے مقام اس کا
صفائے پاکی طینت سے ہے گہر کا وضو
صفائے پاکي طينت: فطری پاکیزگی۔
جمیل تر ہیں گل و لالہ فیض سے اس کے
نگاہ شاعر رنگیں نوا میں ہے جادو

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close