(Bal-e-Jibril-010) (متاع بےبہا ہے درد و سوز آرزو مندی) Mata-e-Bebaha Hai Dard-o-Souz-e-Arzoo Mandi

متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی

متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی
مقام بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی

ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا، نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی

حجاب اکسیر ہے آوارہ کوئے محبت کو
میری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی
دیر پیوندی: دیر کے بعد ملنا۔
گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں
کہ شاہیں کے لیے ذلت ہے کار آشیاں بندی

یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسمعیل کو آداب فرزندی

زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری
کہ خاک راہ کو میں نے بتایا راز الوندی
الوند: ایران کا ایک مشہور پہاڑ۔
مری مشاطگی کی کیا ضرورت حسن معنی کو
کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی
مشاطگی: بناؤ سنگھار کرنا۔

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close