(Bal-e-Jibril-012) (ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا لبریز) Zameer-e-Lala Mai-e-Laal Se Huwa Labraiz

ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا لبریز

ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا لبریز
اشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑ دی پرہیز

بچھائی ہے جو کہیں عشق نے بساط اپنی
کیا ہے اس نے فقیروں کو وارث پرویز

پرانے ہیں یہ ستارے، فلک بھی فرسودہ
جہاں وہ چاہیے مجھ کو کہ ہو ابھی نوخیز

کسے خبر ہے کہ ہنگامہ نشور ہے کیا
تری نگاہ کی گردش ہے میری رستاخیز
ہنگامہ نشور: قیامت کا شور۔
نہ چھین لذت آہ سحر گہی مجھ سے
نہ کر نگہ سے تغافل کو التفات آمیز

دل غمیں کے موافق نہیں ہے موسم گل
صدائے مرغ چمن ہے بہت نشاط انگیز
نشاط انگیز: خوشی سے لبریز۔
حدیث بے خبراں ہے، تو با زمانہ بساز
زمانہ با تو نسازد، تو با زمانہ ستیز

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close