(Bal-e-Jibril-014) (اپنی جولاں گاہ زیر آسمان سمجھا تھا) Apni Jolangah Zair-e-Asman Samjha Tha Main

اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں

اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں
آب و گل کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا میں
آب و گل: پانی اور مٹی۔
بے حجابی سے تری ٹوٹا نگاہوں کا طلسم
اک ردائے نیلگوں کو آسماں سمجھا تھا میں
ردائے نیلگوں: نیلی چادر۔
کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم میں رہ گیا
مہروماہ و مشتری کو ہم عناں سمجھا تھا میں

عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں
بے کراں: کنارے کے بغیر، لا محدود۔
کہہ گئیں راز محبت پردہ دار یہاے شوق
تھی فغاں وہ بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا میں

تھی کسی درماندہ رہرو کی صداے درد ناک
جس کو آواز رحیل کارواں سمجھا تھا میں
آواز رحیل کارواں: قافلے کی روانگی کا اعلان۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: