(Bal-e-Jibril-015) (اک دانش نورانی، اک دانش برہانی) Ek Danish-e-Noorani, Ek Danish-e-Burhani

اک دانش نورانی، اک دانش برہانی

اک دانش نورانی، اک دانش برہانی
ہے دانش برہانی، حیرت کی فراوانی
دانش نورانی: و ہ عقل جو انسان کے دل و دماغ کو روشن کر دے۔
دانش برہانی: و ہ عقل جس میں فلسفیانہ دلیلوں سے کام لیا جائے۔
اس پیکر خاکی میں اک شے ہے، سو وہ تیری
میرے لیے مشکل ہے اس شے کی نگہبانی

اب کیا جو فغاں میری پہنچی ہے ستاروں تک
تو نے ہی سکھائی تھی مجھ کو یہ غزل خوانی

ہو نقش اگر باطل، تکرار سے کیا حاصل
کیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی یہ ارزانی؟

مجھ کو تو سکھا دی ہے افرنگ نے زندیقی
اس دور کے ملا ہیں کیوں ننگ مسلمانی!
زندیقی: مذہب سے بیزاری۔
تقدیر شکن قوت باقی ہے ابھی اس میں
ناداں جسے کہتے ہیں تقدیر کا زندانی
زندانی: قیدی۔
تیرے بھی صنم خانے، میرے بھی صنم خانے
دونوں کے صنم خاکی، دونوں کے صنم فانی

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: