(Bal-e-Jibril-016) (یا رب ! یہ جہاں گزرن خوب ہے لیکن) Ya Rab ! Ye Jahan-e-Guzran Khoob Hai Lekin

یارب! یہ جہان گزراں خوب ہے لیکن

یارب! یہ جہان گزراں خوب ہے لیکن
کیوں خوار ہیں مردان صفا کیش و ہنرمند

گو اس کی خدائی میں مہاجن کا بھی ہے ہاتھ
دنیا تو سمجھتی ہے فرنگی کو خداوند

تو برگ گیا ہے ندہی اہل خرد را
او کشت گل و لالہ بنجشد بہ خرے چند
تو عقلمند اور باکمال لوگوں کو گھاس کی ایک پتی بھی عطا نہیں فرماتا؛ فرنگی چند گدھوں کو گلاب اور پھول کے باغ بخش دیتا ہے (یعنی نالائقوں کو بڑے بڑے عہدوں پر مقرر کر دیتا ہے)۔
حاضر ہیں کلیسا میں کباب و مے گلگوں
مسجد میں دھرا کیا ہے بجز موعظہ و پند
موعظہ: وعظ، نصیحت۔
احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند
پاژند: ژند کی تفسیر۔ پارسیوں کے عقیدے کے مطابق ژند وہ کتاب تھی جو ان کے پیغمبر زرتشت پر اتری۔
فردوس جو تیرا ہے، کسی نے نہیں دیکھا
افرنگ کا ہر قریہ ہے فردوس کی مانند
قریہ: گاؤں، بستی۔
مدت سے ہے آوارہ افلاک مرا فکر
کر دے اسے اب چاند کی غاروں میں نظر بند

فطرت نے مجھے بخشے ہیں جوہر ملکوتی
خاکی ہوں مگر خاک سے رکھتا نہیں پیوند

درویش خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی
گھر میرا نہ دلی، نہ صفاہاں، نہ سمرقند

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نے ابلہ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزند
ابلہ مسجد: مسجد کا ملّا۔
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

مشکل ہے کہ اک بندہ حق بین و حق اندیش
خاشاک کے تودے کو کہے کوہ دماوند
دماوند: ایران کا ایک مشہور پہاڑ۔
ہوں آتش نمرود کے شعلوں میں بھی خاموش
میں بندہ مومن ہوں، نہیں دانہ اسپند
اسپند: کالے رنگ کا ہرمل کا دانہ جو آگ پر پڑتے ہی تڑاخ سے پھٹ جاتا ہے۔
پر سوز و نظرباز و نکوبین و کم آزار
آزاد و گرفتار و تہی کیسہ و خورسند
تہی کیسہ: خالی جیب، غریب۔
خورسند: خوش باش۔
ہر حال میں میرا دل بے قید ہے خرم
کیا چھینے گا غنچے سے کوئی ذوق شکر خند!
شکر خند: خوشی کی ہنسی۔
چپ رہ نہ سکا حضرت یزداں میں بھی اقبال
کرتا کوئی اس بندہ گستاخ کا منہ بند!

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: