(Bal-e-Jibril-019) (وہ حرف راز کے مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں) Woh Harf-e-Raaz Ke Mujh Ko Sikha Gaya Hai Junoon

وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں

وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں
خدا مجھے نفس جبرئیل دے تو کہوں

ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں

حیات کیا ہے، خیال و نظر کی مجذوبی
خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گونا گوں

عجب مزا ہے، مجھے لذت خودی دے کر
وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ رہوں

ضمیر پاک و نگاہ بلند و مستی شوق
نہ مال و دولت قاروں، نہ فکر افلاطوں
قاروں: بنی اسرائیل کا امیر ترین شخص جو راہ حق سے ہٹ گیا۔ اس پر سمجھانے بجھانے کا بھی کوئی اثر نہ ہوا اور اللہ تعالے نے اسے اس کے خاندان کے ساتھ زمین میں دھنسا دیا۔
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دما دم صدائے ‘کن فیکوں’
کن فیکوں: قرآن کی اس آیت کی طرف اشارہ جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالے نے کائنات پیدا کرتے وقت کن کہا اور کائنات پیدا ہو گئی۔
علاج آتش رومی کے سوز میں ہے ترا
تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں

اسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن
اسی کے فیض سے میرے سبو میں ہے جیحوں
جیحوں: ترکستان کا مشہور دریا۔

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close