(Bal-e-Jibril-021) (تو ابھی رہ گزر میں ہے، قید مقام سے گزر) Tu Abhi Reh Guzar Mein Hai, Qaid-e-Maqam Se Guzar

تو ابھی رہ گزر میں ہے، قید مقام سے گزر

تو ابھی رہ گزر میں ہے، قید مقام سے گزر
مصر و حجاز سے گزر، پارس و شام سے گزر

جس کا عمل ہے بے غرض، اس کی جزا کچھ اور ہے
حور و خیام سے گزر، بادہ و جام سے گزر
خيام: خیمہ کی جمع۔
گرچہ ہے دلکشا بہت حسن فرنگ کی بہار
طائرک بلند بال، دانہ و دام سے گزر

کوہ شگاف تیری ضرب، تجھ سے کشاد شرق و غرب
تیغ ہلال کی طرح عیش نیام سے گزر

تیرا امام بے حضور، تیری نماز بے سرور
ایسی نماز سے گزر، ایسے امام سے گزر

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: