(Bal-e-Jibril-024) (مسلمان کے لہو میں ہے، سلیقہ دل نوازی کا) Musalman Ke Lahoo Mein Hai, Saliqa Dil Nawazi Ka

مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا

کابل ميں لکھے گئے
مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا
مروت حسن عالم گیر ہے مردان غازی کا

شکایت ہے مجھے یا رب! خداوندان مکتب سے
سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا

بہت مدت کے نخچیروں کا انداز نگہ بدلا
کہ میں نے فاش کر ڈالا طریقہ شاہبازی کا
نخچير: شکار۔
قلندر جز دو حرف لاالہ کچھ بھی نہیں رکھتا
فقیہ شہر قاروں ہے لغت ہائے حجازی کا

حدیث بادہ و مینا و جام آتی نہیں مجھ کو
نہ کر خارا شگافوں سے تقاضا شیشہ سازی کا
خارا شگاف: مراد ہے تلخ لہجہ۔
کہاں سے تونے اے اقبال سیکھی ہے یہ درویشی
کہ چرچا پادشاہوں میں ہے تیری بے نیازی کا

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: