(Bal-e-Jibril-025) (عشق سے پیدا نواۓ زندگی میں زیر و بم) Ishq Se Paida Nuwa’ay Zindagi Mein Zair-o-Bam

عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم

عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم
عشق سے مٹی کی تصویروں میں سوز وم بہ دم

آدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا ہے عشق
شاخ گل میں جس طرح باد سحر گاہی کا نم

اپنے رازق کو نہ پہچانے تو محتاج ملوک
اور پہچانے تو ہیں تیرے گدا دارا و جم

دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامان موت
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم!
شکم: پیٹ۔
اے مسلماں! اپنے دل سے پوچھ، ملا سے نہ پوچھ
ہوگیا اللہ کے بندوں سے کیوں خالی حرم

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: