(Bal-e-Jibril-026) (دل سوز سے خالی ہے ، نگاہ پاک نہیں ہے) Dil Soz Se Khali Hai, Nigah Pak Nahin Hai

دل سوز سے خالی ہے، نگہ پاک نہیں ہے

دل سوز سے خالی ہے، نگہ پاک نہیں ہے
پھر اس میں عجب کیا کہ تو بے باک نہیں ہے

ہے ذوق تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں
غافل! تو نرا صاحب ادراک نہیں ہے
صاحب ادراک: اشارہ ہے مشہور عام حدیث کی طرف جس میں کہا گیا ‘اگر تو نہ ہو تا تو میں اسمانوں کو پیدا نہ کرتا’۔
وہ آنکھ کہ ہے سرم ہ افرنگ سے روشن
پرکار و سخن ساز ہے، نم ناک نہیں ہے

کیا صوفی و ملا کو خبر میرے جنوں کی
ان کا سر دامن بھی ابھی چاک نہیں ہے

کب تک رہے محکومی انجم میں مری خاک
یا میں نہیں، یا گردش افلاک نہیں ہے

بجلی ہوں، نظر کوہ و بیاباں پہ ہے مری
میرے لیے شایاں خس و خاشاک نہیں ہے

عالم ہے فقط مومن جاں باز کی میراث
مومن نہیں جو صاحب لولاک نہیں ہے!

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: