(Bal-e-Jibril-027) (ہزار خوف ہو لیکن زبان ہو دل کی رفیق) Hazar Khof Ho Lekin Zuban Ho Dil Ki Rafeeq

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں
فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مرد خلیق
پير مغاں: شراب فروش۔
علاج ضعف یقیں ان سے ہو نہیں سکتا
غریب اگرچہ ہیں رازی کے نکتہ ہائے دقیق
نکتہ ہائے دقيق: باریک اور عجیب و غریب نقطے۔
مرید سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائب
خدا کرے کہ ملے شیخ کو بھی یہ توفیق

اسی طلسم کہن میں اسیر ہے آدم
بغل میں اس کی ہیں اب تک بتان عہد عتیق
بتان عہد عتيق: پرانا زمانہ ۔
مرے لیے تو ہے اقرار باللساں بھی بہت
ہزار شکر کہ ملا ہیں صاحب تصدیق
اقرار باللساں: زبانی اقرار۔
اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مرد مسلماں بھی کافر و زندیق
زنديق: بے دین، ملحد۔

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close