(Bal-e-Jibril-037) (خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں) Khudi Woh Beher Hai Jis Ka Koi Kinara Nahin

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں
تو آبجو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں

طلسم گنبد گردوں کو توڑ سکتے ہیں
زجاج کی یہ عمارت ہے، سنگ خارہ نہیں
زجاج: شیشہ۔
خودی میں ڈوبتے ہیں پھر ابھر بھی آتے ہیں
مگر یہ حوصلہ مرد ہیچ کارہ نہیں

ترے مقام کو انجم شناس کیا جانے
کہ خاک زندہ ہے تو، تابع ستارہ نہیں

یہیں بہشت بھی ہے، حور و جبرئیل بھی ہے
تری نگہ میں ابھی شوخی نظارہ نہیں

مرے جنوں نے زمانے کو خوب پہچانا
وہ پیرہن مجھے بخشا کہ پارہ پارہ نہیں

غضب ہے، عین کرم میں بخیل ہے فطرت
کہ لعل ناب میں آتش تو ہے، شرارہ نہیں

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: