(Bal-e-Jibril-038) (یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی) Ye Peyam De Gayi Hai Mujhe Bad-e-Subah Gahi

یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی

یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی
کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی

تری زندگی اسی سے، تری آبرو اسی سے
جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو روسیاہی

نہ دیا نشان منزل مجھے اے حکیم تو نے
مجھے کیا گلہ ہو تجھ سے، تو نہ رہ نشیں نہ راہی

مرے حلقہ سخن میں ابھی زیر تربیت ہیں
وہ گدا کہ جانتے ہیں رہ و رسم کجکلاہی
رسم کجکلاہي: مراد ہے بادشاہوں کے طور طریقے۔
یہ معاملے ہیں نازک، جو تری رضا ہو تو کر
کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق خانقاہی

تو ہما کا ہے شکاری، ابھی ابتدا ہے تیری
نہیں مصلحت سے خالی یہ جہان مرغ و ماہی

تو عرب ہو یا عجم ہو، ترا لا الہ الا
لغت غریب، جب تک ترا دل نہ دے گواہی
غريب: بے معنی۔ لغت

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: