(Bal-e-Jibril-044) (خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ) Kirad Ne Mujh Ko Atta Ki Nazar Hakeemana

خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ

خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ
سکھائی عشق نے مجھ کو حدیث رندانہ

نہ بادہ ہے، نہ صراحی، نہ دور پیمانہ
فقط نگاہ سے رنگیں ہے بزم جانانہ
بزم جانانہ: محبوب کی محفل۔
مری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ
کہ میں ہوں محرم راز درون میخانہ
محرم راز درون ميخانہ: کائنات کے رازوں کو جاننے والا۔
کلی کو دیکھ کہ ہے تشنہ نسیم سحر
اسی میں ہے مرے دل کا تمام افسانہ

کوئی بتائے مجھے یہ غیاب ہے کہ حضور
سب آشنا ہیں یہاں، ایک میں ہوں بیگانہ

فرنگ میں کوئی دن اور بھی ٹھہر جاوں
مرے جنوں کو سنبھالے اگر یہ ویرانہ

مقام عقل سے آساں گزر گیا اقبال
مقام شوق میں کھویا گیا وہ فرزانہ
فرزانہ: سمجھدار، ہوشیار۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: