(Bal-e-Jibril-047) (ہر چیز ہے محو خود نمائی) Har Cheez Hai Mehew-e-Khud Numai

ہر چیز ہے محو خود نمائی

ہر چیز ہے محو خود نمائی
ہر ذرہ شہید کبریائی

بے ذوق نمود زندگی، موت
تعمیر خودی میں ہے خدائی

رائی زور خودی سے پربت
پربت ضعف خودی سے رائی

تارے آوارہ و کم آمیز
تقدیر وجود ہے جدائی

یہ پچھلے پہر کا زرد رو چاند
بے راز و نیاز آشنائی

تیری قندیل ہے ترا دل
تو آپ ہے اپنی روشنائی

اک تو ہے کہ حق ہے اس جہاں میں
باقی ہے نمود سیمیائی

ہیں عقدہ کشا یہ خار صحرا
کم کر گلہ برہنہ پائی

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: