(Bal-e-Jibril-048) (اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ) Ejaz Hai Kissi Ka Ya Gardish-e-Zamana !

اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ!

اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ!
ٹوٹا ہے ایشیا میں سحر فرنگیانہ

تعمیر آشیاں سے میں نے یہ راز پایا
اہل نوا کے حق میں بجلی ہے آشیانہ

یہ بندگی خدائی، وہ بندگی گدائی
یا بندہ خدا بن یا بندہ زمانہ!

غافل نہ ہو خودی سے، کر اپنی پاسبانی
شاید کسی حرم کا تو بھی ہے آستانہ

اے لا الہ کے وارث! باقی نہیں ہے تجھ میں
گفتار دلبرانہ، کردار قاہرانہ

تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے
کھویا گیا ہے تیرا جذب قلندرانہ

راز حرم سے شاید اقبال باخبر ہے
ہیں اس کی گفتگو کے انداز محرمانہ

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close