(Bal-e-Jibril-049) (خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے) Khirad Mandon Se Kya Poochun Ke Meri Ibtada Kya Hai

خردمندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے

خردمندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں، میری انتہا کیا ہے

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے

مقام گفتگو کیا ہے اگر میں کیمیا گرہوں
یہی سوز نفس ہے، اور میری کیمیا کیا ہے!

نظر آئیں مجھے تقدیر کی گہرائیاں اس میں
نہ پوچھ اے ہم نشیں مجھ سے وہ چشم سرمہ سا کیا ہے

اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے میں
تو اقبال اس کو سمجھاتا مقام کبریا کیا ہے

نواے صبح گاہی نے جگر خوں کر دیا میرا
خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے، وہ خطا کیا ہے!

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: