(Bal-e-Jibril-050) (جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی) Jab Ishq Sikhata Hai Adab-e-Khud Agahi

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی

عطار ہو، رومی ہو، رازی ہو، غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی

نومید نہ ہو ان سے اے رہبر فرزانہ!
کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی
فرزانہ: عقلمند، دانا۔
کم کوش: کم کوشش کرنے والا ، تن آسان۔
اے طائر لاہوتی! اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
طائر لاہوتی: تصوّف میں آخری منزل لا ہوت ہے، یعنی وہ مقام جہاں اللہ تعالے کے سوا اور کچھ نہیں۔
دارا و سکندر سے وہ مرد فقیر اولی
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللہی

آئین جوانمردں، حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
روباہی: لومڑی جیسی عادت، چالاکی۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: