(Bal-e-Jibril-052) (نہ ہو طغیانی مشتاقی تو میں رہتا نہیں باقی) Na Ho Tughyan-e-Mushtaqi To Main Rehta Nahin Baqi

نہ ہو طغیان مشتاقی تو میں رہتا نہیں باقی

نہ ہو طغیان مشتاقی تو میں رہتا نہیں باقی
کہ میری زندگی کیا ہے، یہی طغیان مشتاقی

مجھے فطرت نوا پر پے بہ پے مجبور کرتی ہے
ابھی محفل میں ہے شاید کوئی درد آشنا باقی

وہ آتش آج بھی تیرا نشیمن پھونک سکتی ہے
طلب صادق نہ ہو تیری تو پھر کیا شکوئہ ساقی!

نہ کر افرنگ کا اندازہ اس کی تابناکی سے
کہ بجلی کے چراغوں سے ہے اس جوہر کی براقی

دلوں میں ولولے آفاق گیری کے نہیں اٹھتے
نگاہوں میں اگر پیدا نہ ہو انداز آفاقی

خزاں میں بھی کب آسکتا تھا میں صیاد کی زد میں
مری غماز تھی شاخ نشیمن کی کم اوراقی

الٹ جائیں گی تدبیریں، بدل جائیں گی تقدیریں
حقیقت ہے، نہیں میرے تخیل کی یہ خلاقی

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: