(Bal-e-Jibril-055) (تازہ پھر دانش حاضر نے کیا سحر قدیم) Taza Phir Danish-e-Hazir Ne Kiya Sehar-e-Qadeem

تازہ پھر دانش حاضر نے کیا سحر قدیم

تازہ پھر دانش حاضر نے کیا سحر قدیم
گزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوب کلیم

عقل عیار ہے، سو بھیس بنا لیتی ہے
عشق بے چارہ نہ ملا ہے نہ زاہد نہ حکیم!

عیش منزل ہے غریبان محبت پہ حرام
سب مسافر ہیں، بظاہر نظر آتے ہیں مقیم

ہے گراں سیر غم راحلہ و زاد سے تو
کوہ و دریا سے گزر سکتے ہیں مانند نسیم

مرد درویش کا سرمایہ ہے آزادی و مرگ
ہے کسی اور کی خاطر یہ نصاب زر و سیم

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close