(Bal-e-Jibril-058) (خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل) Khudi Ho Ilm Se Mohkam To Ghairat-e-Jibreel

خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل

خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل
اگر ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل

عذاب دانش حاضر سے باخبر ہوں میں
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثل خلیل

فریب خوردہ منزل ہے کارواں ورنہ
زیادہ راحت منزل سے ہے نشاط رحیل
رحيل:کوچ۔
نظر نہیں تو مرے حلقہ سخن میں نہ بیٹھ
کہ نکتہ ہائے خودی ہیں مثال تیغ اصیل
تيغ اصيل:جوہر دار تلوار؛ یعنی تیز دھار تلوار،
مجھے وہ درس فرنگ آج یاد آتے ہیں
کہاں حضور کی لذت، کہاں حجاب دلیل!

اندھیری شب ہے، جدا اپنے قافلے سے ہے تو
ترے لیے ہے مرا شعلہ نوا، قندیل

غریب و سادہ و رنگیں ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین، ابتدا ہے اسمعیل

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: