(Bal-e-Jibril-064) (نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے) Na Takht-o-Taj Mein Ne Lashkar-o-Sipah Mein Hai

نہ تخت و تاج میں، نے لشکر و سپاہ میں ہے

نہ تخت و تاج میں، نے لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات مرد قلندر کی بارگاہ میں ہے

صنم کدہ ہے جہاں اور مرد حق ہے خلیل
یہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لاالہ میں ہے

وہی جہاں ہے ترا جس کو تو کرے پیدا
یہ سنگ و خشت نہیں، جو تری نگاہ میں ہے
سنگ و خشت: اینٹ اور پتھر۔
مہ و ستارہ سے آگے مقام ہے جس کا
وہ مشت خاک ابھی آوارگان راہ میں ہے

خبر ملی ہے خدایان بحر و بر سے مجھے
فرنگ رہ گزر سیل بے پناہ میں ہے
رہ گزر سيل: سیلاب کی راہ میں۔
تلاش اس کی فضاوں میں کر نصیب اپنا
جہان تازہ مری آہ صبح گاہ میں ہے

مرے کدو کو غنیمت سمجھ کہ بادہ ناب
نہ مدرسے میں ہے باقی نہ خانقاہ میں ہے
بادہ ناب: خالص شراب۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: