(Bal-e-Jibril-068) (نے مہرہ باقی، نے مہرہ بازی) Ne Muhrah Baqi, Ne Muhrah Bazi

نے مہرہ باقی، نے مہرہ بازی

نے مہرہ باقی، نے مہرہ بازی
جیتا ہے رومی، ہارا ہے رازی

روشن ہے جام جمشید اب تک
شاہی نہیں ہے بے شیشہ بازی

دل ہے مسلماں میرا نہ تیرا
تو بھی نمازی، میں بھی نمازی!

میں جانتا ہوں انجام اس کا
جس معرکے میں ملا ہوں غازی

ترکی بھی شیریں، تازی بھی شیریں
حرف محبت ترکی نہ تازی
تازي: عربی۔
آزر کا پیشہ خارا تراشی
کار خلیلاں خارا گدازی
خارا: پتھر۔
تو زندگی ہے، پائندگی ہے
باقی ہے جو کچھ، سب خاک بازی

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: