(Bal-e-Jibril-069) (گرم فغاں ہے جرس، اٹھ کے گیا قافلہ) Garam-e-Faghan Hai Jaras, Uth Ke Gya Qafla

گرم فغاں ہے جرس، اٹھ کہ گیا قافلہ

گرم فغاں ہے جرس، اٹھ کہ گیا قافلہ
وائے وہ رہرو کہ ہے منتظر راحuلہ!
راحلہ:سواری۔
جرس:گھنٹی۔
تیری طبیعت ہے اور، تیرا زمانہ ہے اور
تیرے موافق نہیں خانقہی سلسلہ

دل ہو غلام خرد یا کہ امام خرد
سالک رہ، ہوشیار! سخت ہے یہ مرحلہ

اس کی خودی ہے ابھی شام و سحر میں اسیر
گردش دوراں کا ہے جس کی زباں پر گلہ

تیرے نفس سے ہوئی آتش گل تیز تر
مرغ چمن! ہے یہی تیری نوا کا صلہ

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: