(Bal-e-Jibril-071) (ہر ایک مقام سے آگے گزر گیا مہ نو) Har Ek Maqam Se Agay Guzar Gya Mah-e-Nau

ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہ نو

ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہ نو
کمال کس کو میسر ہuوا ہے بے تگ و دو

نفس کے زور سے وہ غنچہ وا ہوا بھی تو کیا
جسے نصیب نہیں آفتاب کا پرتو

نگاہ پاک ہے تیری تو پاک ہے دل بھی
کہ دل کو حق نے کیا ہے نگاہ کا پیرو

پنپ سکا نہ خیاباں میں لالہ دل سوز
کہ ساز گار نہیں یہ جہان گندم و جو

رہے نہ ایبک و غوری کے معرکے باقی
ہمیشہ تازہ و شیریں ہے نغمہ خسرو

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: