(Bal-e-Jibril-072) (کھو نہ جا اس سحر و شہر میں اے صاحب ہوش) Kho Na Ja Iss Sehar-o-Sham Mein Ae Sahib-e-Hosh !

کھو نہ جا اس سحروشام میں اے صاحب ہوش!

کھو نہ جا اس سحروشام میں اے صاحب ہوش!
اک جہاں اور بھی ہے جس میں نہ فردا ہے نہ دوش
دوش: گزرا ہوا کل۔
فردا: آنے والا کل۔
کس کو معلوم ہے ہنگامہ فردا کا مقام
مسجد و مکتب و میخانہ ہیں مدت سے خموش

میں نے پایا ہے اسے اشک سحر گاہی میں
جس در ناب سے خالی ہے صدف کی آغوش
اشک سحر گاہي: صبح سویرے اللہ کی یاد میں آنسو بہانا۔
در ناب: نایاب موتی۔
نئی تہذیب تکلف کے سوا کچھ بھی نہیں
چہرہ روشن ہو تو کیا حاجت گلگونہ فروش!
گلگونہ فروش: ابٹن، مراد ہے سرخی پاؤڈر بیچنے والا۔
صاحب ساز کو لازم ہے کہ غافل نہ رہے
گاہے گاہے غلط آہنگ بھی ہوتا ہے سروش

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: