(Bal-e-Jibril-073) (تھا جہاں مدرسہ شیری و شہنشاہی) Tha Jahan Madrasa-e-Sheri-o-Shahanshahi

تھا جہاں مدرسہ شیری و شاہنشاہی

تھا جہاں مدرسہ شیری و شاہنشاہی
آج ان خانقہوں میں ہے فقط روباہی
روباہي: لومڑی کی خصلت، چالاکی۔
نظر آئی نہ مجھے قافلہ سالاروں میں
وہ شبانی کہ ہے تمہید کلیم اللہی
شباني: گلہ بانی ، بھیڑ بکریاں چرانے کا کام۔
لذت نغمہ کہاں مرغ خوش الحاں کے لیے
آہ، اس باغ میں کرتا ہے نفس کوتاہی
مرغ خوش الحاں: خوش آواز پرندہ۔
ایک سرمستی و حیرت ہے سراپا تاریک
ایک سرمستی و حیرت ہے تمام آگاہی

صفت برق چمکتا ہے مرا فکر بلند
کہ بھٹکتے نہ پھریں ظلمت شب میں راہی
صفت برق:آسمانی بجلی کی طرح۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: