(Bal-e-Jibril-120) (مسجد قرطبہ) Masjid-e-Qurtuba

مسجد قرطبہ

سلسلہ روز و شب، نقش گر حادثات
سلسلہ روز و شب، اصل حیات و ممات
نقش گر حادثات: واقعات کے ہونے کا باعث۔
سلسلہ روز و شب، تار حریر دو رنگ
جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات
قبا: لباس۔. حرير: ریشم ۔
سلسلہ روز و شب، ساز ازل کی فغاں
جس سے دکھاتی ہے ذات زیروبم ممکنات

تجھ کو پرکھتا ہے یہ، مجھ کو پرکھتا ہے یہ
سلسلہ روز و شب، صیرفی کائنات
صيرفي: صراف کی جمع ؛ صراف یعنی پرکھنے والا۔
تو ہو اگر کم عیار، میں ہوں اگر کم عیار
موت ہے تیری برات، موت ہے میری برات

تیرے شب وروز کی اور حقیقت ہے کیا
ایک زمانے کی رو جس میں نہ دن ہے نہ رات

آنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنر
کار جہاں بے ثبات، کار جہاں بے ثبات!

اول و آخر فنا، باطن و ظاہر فنا
نقش کہن ہو کہ نو، منزل آخر فنا

ہے مگر اس نقش میں رنگ ثبات دوام
جس کو کیا ہو کسی مرد خدا نے تمام

مرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ
عشق ہے اصل حیات، موت ہے اس پر حرام

تند و سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی رو
عشق خود اک سیل ہے، سیل کو لیتاہے تھام
سيل: سیلاب۔ تند و سبک: تیز اور بے آواز۔
عشق کی تقویم میں عصررواں کے سوا
اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام
عصررواں: زمانہ جو جاری ہو۔ تقويم: جنتری، کلینڈر۔
عشق دم جبرئیل، عشق دل مصطفی
عشق خدا کا رسول، عشق خدا کا کلام

عشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناک
عشق ہے صہبائے خام، عشق ہے کاس الکرام
پيکر گل: مٹی کا بت، انسان۔
صہبائے خام: وہ شراب جس میں کوئی چیز ملی نہ ہو، خالص۔
کاس الکرام: اہل کرم کا پیالہ جس سے دوسروں کو بھی حصّہ ملے۔
عشق فقیہ حرم، عشق امیر جنود
عشق ہے ابن السبیل، اس کے ہزاروں مقام
ابن السبيل: مسافر جنود: فوجیں، لشکر
عشق کے مضراب سے نغمہ تار حیات
عشق سے نور حیات، عشق سے نار حیات

اے حرم قرطبہ! عشق سے تیرا وجود
عشق سراپا دوام، جس میں نہیں رفت و بود
رفت و بود: گیا اور تھا یعنی فنا ہو جانا۔
رنگ ہو یا خشت و سنگ، چنگ ہو یا حرف و صوت
معجزہ فن کی ہے خون جگر سے نمود
خشت و سنگ: اینٹ اور پتّھر
چنگ: مونہہ سے بجایا جانے والا آلہء موسیقی۔
قطرہ خون جگر، سل کو بناتا ہے دل
خون جگر سے صدا سوز و سرور و سرود
سل: پتّھر۔
تیری فضا دل فروز، میری نوا سینہ سوز
تجھ سے دلوں کا حضور، مجھ سے دلوں کی کشود
دلوں کي کشود: دلوں کا کھل جانا۔
عرش معلی سے کم سینہ آدم نہیں
گرچہ کف خاک کی حد ہے سپہر کبود
کف خاک: مٹھی بھر خاک – انسان۔
سپہر کبود: نیلا آسمان۔
پیکر نوری کو ہے سجدہ میسر تو کیا
اس کو میسر نہیں سوز و گداز سجود
پيکر نوري: نورانی وجود یعنی فرشتے۔
کافر ہندی ہوں میں، دیکھ مرا ذوق و شوق
دل میں صلوہ و درود، لب پہ صلوہ و درود

شوق مری لے میں ہے، شوق مری نے میں ہے
نغمہ ‘اللہ ھو’ میرے رگ و پے میں ہے

تیرا جلال و جمال، مرد خدا کی دلیل
وہ بھی جلیل و جمیل، تو بھی جلیل و جمیل

تیری بنا پائدار، تیرے ستوں بے شمار
شام کے صحرا میں ہو جیسے ہجوم نخیل
ہجوم نخيل: کھجور کے درختوں کا جھنڈ۔
تیرے در و بام پر وادی ایمن کا نور
تیرا منار بلند جلوہ گہ جبرئیل

مٹ نہیں سکتا کبھی مرد مسلماں کہ ہے
اس کی اذانوں سے فاش سر کلیم و خلیل

اس کی زمیں بے حدود، اس کا افق بے ثغور
اس کے سمندر کی موج، دجلہ و دنیوب و نیل
ثغور: (ثغر کی جمع) سرحدوں کے بغیر بے
اس کے زمانے عجیب، اس کے فسانے غریب
عہد کہن کو دیا اس نے پیام رحیل
رحيل: کوچ –سفر کا آغاز
ساقی ارباب ذوق، فارس میدان شوق
بادہ ہے اس کا رحیق، تیغ ہے اس کی اصیل
رحيق: خالص اور صاف شراب۔ فارس: شہسوار۔
مرد سپاہی ہے وہ اس کی زرہ ‘لا الہ’
سایہ شمشیر میں اس کہ پنہ ‘لا الہ’

تجھ سے ہوا آشکار بندہ مومن کا راز
اس کے دنوں کی تپش، اس کی شبوں کا گداز

اس کا مقام بلند، اس کا خیال عظیم
اس کا سرور اس کا شوق، اس کا نیاز اس کا ناز

ہاتھ ہے اللہ کا بندئہ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں، کارکشا، کارساز

خاکی و نوری نہاد، بندہ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیاز
نوري نہاد: جس کی فطرت نوری ہو – فرشتہ صفت۔
اس کی امیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دل فریب، اس کی نگہ دل نواز

نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو
رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز

نقطہ پرکار حق، مرد خدا کا یقیں
اور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجاز

عقل کی منزل ہے وہ، عشق کا حاصل ہے وہ
حلقہ آفاق میں گرمی محفل ہے وہ

کعبہ ارباب فن! سطوت دین مبیں
تجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیں
دين مبيں: روشن دین یعنی اسلام
ہے تہ گردوں اگر حسن میں تیری نظیر
قلب مسلماں میں ہے، اور نہیں ہے کہیں

آہ وہ مردان حق! وہ عربی شہسوار
حامل ‘ خلق عظیم’، صاحب صدق و یقیں
خلق عظيم: اشارہ ہے خلق عظيم کے مالک حضرت محمد (صلعم) کی طرف۔
جن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمز غریب
سلطنت اہل دل فقر ہے، شاہی نہیں
رمز غريب: نادر نکتہ، عجیب بھید۔
جن کی نگاہوں نے کی تربیت شرق و غرب
ظلمت یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیں

جن کے لہو کے طفیل آج بھی ہیں اندلسی
خوش دل و گرم اختلاط، سادہ و روشن جبیں
گرم اختلاط: میل جول میں پر تپاک۔
آج بھی اس دیس میں عام ہے چشم غزال
اور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیں

بوئے یمن آج بھی اس کی ہواوں میں ہے
رنگ حجاز آج بھی اس کی نواوں میں ہے

دیدہ انجم میں ہے تیری زمیں، آسماں
آہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاں

کون سی وادی میں ہے، کون سی منزل میں ہے
عشق بلا خیز کا قافلہ سخت جاں!

دیکھ چکا المنی، شورش اصلاح دیں
جس نے نہ چھوڑے کہیں نقش کہن کے نشاں
المني: جرمنی
حرف غلط بن گئی عصمت پیر کنشت
اور ہوئی فکر کی کشتی نازک رواں
پير کنشت: کلیسا کا سب سے بڑا بزرگ – پوپ۔
چشم فرانسیس بھی دیکھ چکی انقلاب
جس سے دگرگوں ہوا مغربیوں کا جہاں

ملت رومی نژاد کہنہ پرستی سے پیر
لذت تجدید سے وہ بھی ہوئی پھر جواں
ملت: مراد ہے اہل اٹلی ۔ رومي نژاد
روح مسلماں میں ہے آج وہی اضطراب
راز خدائی ہے یہ، کہہ نہیں سکتی زباں

دیکھیے اس بحر کی تہ سے اچھلتا ہے کیا
گنبد نیلو فری رنگ بدلتا ہے کیا!
گنبد: آسمان۔ نيلو فري
وادی کہسار میں غرق شفق ہے سحاب
لعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتاب
حاب: بادل ۔
سادہ و پرسوز ہے دختر دہقاں کا گیت
کشتی دل کے لیے سیل ہے عہد شباب

آب روان کبیر! تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب
آب روان کبير: وادی الکبیر اندلس کا مشہور دریا جس کے دونوں کناروں پر قرطبہ آباد ہے۔
عالم نو ہے ابھی پردہ تقدیر میں
میری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجاب

پردہ اٹھا دوں اگر چہرئہ افکار سے
لا نہ سکے گا فرنگ میری نواوں کی تاب

جس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی
روح امم کی حیات کشمکش انقلاب

صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب

نقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: