(Bal-e-Jibril-122) (عبد ارحمن اول کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت سرزمین اندلس میں) Abdur Rehman Awal Ka Boya Huwa Khajoor Ka Pehla Darakht Sarzameen-e-Andlus Mein

عبدالرحمن اول کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت سرزمین اندلس

میری آنکھوں کا نور ہے تو
میرے دل کا سرور ہے تو

اپنی وادی سے دور ہوں میں
میرے لیے نخل طور ہے تو

مغرب کی ہوا نے تجھ کو پالا
صحرائے عرب کی حور ہے تو

پردیس میں ناصبور ہوں میں
پردیس میں ناصبور ہے تو

غربت کی ہوا میں بارور ہو
ساقی تیرا نم سحر ہو

عالم کا عجیب ہے نظارہ
دامان نگہ ہے پارہ پارہ

ہمت کو شناوری مبارک!
پیدا نہیں بحر کا کنارہ
شناوري: تیرنا
ہے سوز دروں سے زندگانی
اٹھتا نہیں خاک سے شرارہ

صبح غربت میں اور چمکا
ٹوٹا ہوا شام کا ستارہ

مومن کے جہاں کی حد نہیں ہے
مومن کا مقام ہر کہیں ہے

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close