(Bal-e-Jibril-124) (طارق کی دعا) Tariq Ki Dua

طارق کی دعا

اندلس کے ميدان جنگ ميں
یہ غازی، یہ تیرے پر اسرار بندے
جنھیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی

دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
کشور کشائي: حکمرانی۔
خیاباں میں ہے منتظر لالہ کب سے
قبا چاہیے اس کو خون عرب سے
خياباں: پھولوں کی کیاری۔
کیا تو نے صحرا نشینوں کو یکتا
خبر میں، نظر میں، اذان سحر میں

طلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی کو
وہ سوز اس نے پایا انھی کے جگر میں

کشاد در دل سمجھتے ہیں اس کو
ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں

دل مرد مومن میں پھر زندہ کر دے
وہ بجلی کہ تھی نعرہ لاتذر، میں

عزائم کو سینوں میں بیدار کردے
نگاہ مسلماں کو تلوار کردے!

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close