(Bal-e-Jibril-125) (لینن – خدا کے حضور میں) Lenin (Khuda Ke Hazoor Mein)

لينن خدا کے حضور

اے انفس و آفاق میں پیدا ترے آیات
حق یہ ہے کہ ہے زندہ و پائندہ تری ذات
انفس: نفس کی جمع؛ مراد ہے عالم ارواح سے۔
آفاق: افق کی جمع؛ مراد ہے عالم اجسام سے۔
میں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہے
ہر دم متغیر تھے خرد کے نظریات
متغير: بدلنے والا۔
محرم نہیں فطرت کے سرود ازلی سے
بینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتات
بینائے کواکب: ستاروں کا علم رکھنے والا۔
دانائے نباتات: نباتات کا علم رکھنے والا۔
آج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابت
میں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافات
خرافات: من گھڑت باتیں۔
ہم بند شب و روز میں جکڑے ہوئے بندے
تو خالق اعصار و نگارندہ آنات!
اعصار: عصر کی جمع ؛ یعنی زمانے۔
نگارندہ: لکھنے والا۔
آنات: آن کی جمع، یعنی اوقات۔
اک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پوچھوں
حل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالات

جب تک میں جیا خیمہ افلاک کے نیچے
کانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ بات

گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتا
جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات
متلاطم: لہریں لینے والے۔
وہ کون سا آدم ہے کہ تو جس کا ہے معبود
وہ آدم خاکی کہ جو ہے زیر سماوات؟
سماوات: سماء کی جمع؛ یعنی آسمانوں۔
مشرق کے خداوند سفیدان فرنگی
مغرب کے خداوند درخشندہ فلزات
فلزات: دھاتیں۔
یورپ میں بہت روشنی علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمہ حیواں ہے یہ ظلمات
ظلمات: اندھیرے ۔
رعنائی تعمیر میں، رونق میں، صفا میں
گرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات

ظاہر میں تجارت ہے، حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگ مفاجات
مرگ مفاجات: ناگہانی موت۔
یہ علم، یہ حکمت، یہ تدبر، یہ حکومت
پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیم مساوات

بے کاری و عریانی و مے خواری و افلاس
کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کے فتوحات
مدنيت: تمدّن۔
وہ قوم کہ فیضان سماوی سے ہو محروم
حد اس کے کمالات کی ہے برق و بخارات

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

آثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخر
تدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا مات
شاطر: شطرنج کا کھلاڑی، مراد ہے بہت چالاک۔
میخانے کی بنیاد میں آیا ہے تزلزل
بیٹھے ہیں اسی فکر میں پیران خرابات
تزلزل: زلزلہ، بھونچال۔
پيران خرابات: مے خانے کا منتظم۔
چہروں پہ جو سرخی نظر آتی ہے سر شام
یا غازہ ہے یا ساغر و مینا کی کرامات

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟
دنیا ہے تری منتظر روز مکافات
مکافات: بدلہ۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: