(Bal-e-Jibril-126) (فرشتوں کا گیت، فرمان خدا – فرشتوں سے) (Farishton Ka Geet, Farman-e-Khuda Farishton Se)

فرشتوں کاگیت

عقل ہے بے زمام ابھی، عشق ہے بے مقام ابھی
نقش گر، ازل! ترا نقش ہے نا تمام ابھی
زمام: لگام، نکیل۔
خلق خدا کی گھات میں رند و فقیہ و میر و پیر
تیرے جہاں میں ہے وہی گردش صبح و شام ابھی

تیرے امیر مال مست، تیرے فقیر حال مست
بندہ ہے کوچہ گرد ابھی، خواجہ بلند بام ابھی

دانش و دین و علم و فن بندگی ہوس تمام
عشق گرہ کشاے کا فیض نہیں ہے عام ابھی

جوہر زندگی ہے عشق، جوہر عشق ہے خودی
آہ کہ ہے یہ تیغ تیز پردگی نیام ابھی!
پردگي نيام: میان کے اندر چھپی ہوئی۔
(فرمان خدا – (فرشتوں سے
اٹھو! مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخ امرا کے در و دیوار ہلا دو
کاخ امرا: امیروں کا محل۔
گرماو غلاموں کا لہو سوز یقیں سے
کنجشک فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو
کنجشک: چڑیا۔
فرومايہ: بے حقیقت، بے حثیت، ناچیز۔
سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقش کہن تم کو نظر آئے، مٹا دو

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے
پیران کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو

حق را بسجودے، صنماں را بطوافے
بہتر ہے چراغ حرم و دیر بجھا دو
حق را بسجودے، صنماں را بطوافے: خدا کو سجدے اور بتوں کا طواف۔
میں ناخوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے
میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو

تہذیب نوی کارگہ شیشہ گراں ہے
آداب جنوں شاعر مشرق کو سکھا دو!
تہذیب نوی: نئی تہذیب۔
شيشہ گراں: شیشہ بنانے والے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: