(Bal-e-Jibril-127) (ذوق و شوق) Zauq-o-Shauq (Ecstasy)

ذوق و شوق

دریغ آمدم زاں ہمہ بوستاں
تہی دست رفتن سوئے دوستاں

قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماں
چشمہ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں

حسن ازل کی ہے نمود، چاک ہے پردئہ وجود
دل کے لیے ہزار سود ایک نگاہ کا زیاں

سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحاب شب
کوہ اضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں

گرد سے پاک ہے ہوا، برگ نخیل دھل گئے
ریگ نواح کاظمہ نرم ہے مثل پرنیاں

آگ بجھی ہوئی ادھر، ٹوٹی ہوئی طناب ادھر
کیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواں

آئی صدائے جبرئیل، تیرا مقام ہے یہی
اہل فراق کے لیے عیش دوام ہے یہی

کس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے م ے حیات
کہنہ ہے بزم کائنات، تازہ ہیں میرے واردات

کیا نہیں اور غزنوی کارگہ حیات میں
بیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات

ذکر عرب کے سوز میں، فکر عجم کے ساز میں
نے عربی مشاہدات، نے عجمی تخیلات

قافلہء حجاز میں ایک حسین بھی نہیں
گرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات

عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشق
عشق نہ ہو تو شرع و دیں بت کدئہ تصورات

صدق خلیل بھی ہے عشق، صبر حسین بھی ہے عشق
معرکہء وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق

آیہء کائنات کا معنی دیر یاب تو
نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو

جلوتیان مدرسہ کور نگاہ و مردہ ذوق
خلوتیان مے کدہ کم طلب و تہی کدو

میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغ
میری تمام سرگزشت کھوئے ہووں کی جستجو

باد صبا کی موج سے نشوونمائے خار و خس
میرے نفس کی موج سے نشوونمائے آرزو

خون دل و جگر سے ہے میری نوا کی پرورش
ہے رگ ساز میں رواں صاحب ساز کا لہو

فرصت کشمکش مدہ ایں دل بے قرار را
یک دو شکن زیادہ کن گیسوے تابدار را

لوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب
گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب

عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ
ذرہ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب

شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود
فقر جنید و بایزید تیرا جمال بے نقاب

شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب، میرا سجود بھی حجاب

تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئے
عقل غیاب و جستجو، عشق حضور و اضطراب

تیرہ و تار ہے جہاں گردش آفتاب سے
طبع زمانہ تازہ کر جلوئہ بے حجاب سے

تیری نظر میں ہیں تمام میرے گزشتہ روز و شب
مجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم نخیل بے رطب

تازہ مرے ضمیر میں معرکہء کہن ہوا
عشق تمام مصطفی، عقل تمام بولہب

گاہ بحیلہ می برد، گاہ بزور می کشد
عشق کی ابتدا عجب، عشق کی انتہا عجب

عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراق
وصل میں مرگ آرزو، ہجر میں لذت طلب

عین وصال میں مجھے حوصلہء نظر نہ تھا
گرچہ بہانہ جو رہی میری نگاہ بے ادب

گرمی آرزو فراق، شورش ہاے و ہو فراق
موج کی جستجو فراق، قطرے کی آبرو فراق!

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: