(Bal-e-Jibril-130) (گدائی) Gadai

گدائی

مے کدے میں ایک دن اک رند زیرک نے کہا
ہے ہمارے شہر کا والی گدائے بے حیا
رند زيرک: دانا شرابی۔
تاج پہنایا ہے کس کی بے کلاہی نے اسے
کس کی عریانی نے بخشی ہے اسے زریں قبا
بے کلاہي: ننگے سر۔
اس کے آب لالہ گوں کی خون دہقاں سے کشید
تیرے میرے کھیت کی مٹی ہے اس کی کیمیا
رنگیں مشروب، شراب۔ آب لالہ گوں:
اس کے نعمت خانے کی ہر چیز ہے مانگی ہوئی
دینے والا کون ہے، مرد غریب و بے نوا

مانگنے والا گدا ہے، صدقہ مانگے یا خراج
کوئی مانے یا نہ مانے، میرو سلطاں سب گدا!

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: